5 ستمبر 2010 - 19:30

بہت ہو گئی۔ اب نہ لاشیں دیکھی جاتی ہیں نہ چیخ و پکار سنی جاتی ہے۔ کیا یہ خون اس قدرارزاں بلکہ بے وقعت تھا کہ سرِ عام بہا دیا جائے؟ کیا اس مملکت کے معزز شہری اس درجہ بے حیثیت ٹھہرے کہ جس دہشت گرد کا جی چاہا پل بھر میں راکھ کا ڈھیر کر دیا؟ حکمرانو! بس کر دو۔ اب ہم تھک گئے ہیں تمہارے بے سر و پا بیانات سن سن کے۔ نفرت ہو گئی ہے تمہاری مکروہ صورتوں سے۔ رٹ گئے ہیں تمہارے رٹے رٹائے جملے۔

دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ (اچھا۔ بہت شکریہ بتانے کا۔ ہمیں معلوم نہیں تھا۔)یہ کسی مسلمان کا کام نہیں۔ (تو پھر بتا دیجئے کس کا کام ہے۔ عین نوازش ہو گی۔)پتا نہیں یہ کون لوگ ہیں۔ (آپ کو نہیں پتا تو پھر کس کو پتا ہے؟)یہ مسلمانوں کو لڑانے کی سازش ہے۔ (یہ صرف مسلمانوں کے خلاف ہی تمام سازشیں کیوں ہوتی ہیں؟ یہودی، ہندو یا بدھ مت ہر سازش سے کیوں محفوظ ہیں؟)حملہ آور کا سر مل گیا ہے۔ (مبارک ہو۔ اب اس سر کو حنوط کر کے اپنے ڈرائنگ روم میں آویزاں کر لیجئے۔)مرنے والوں کو ایک لاکھ اور زخمیوں کو پچاس ہزار ملیں گے۔ (بہت بہت شکریہ۔ ان پیسوں سے کم از کم قبر کا خرچہ اور ڈاکٹر کی فیس تو ادا ہو ہی جائے گی۔)مذکورہ بالا بکواسیات اب اس ملک کے پیدا ہونے والے بچے کو بھی ازبر ہیں۔جن حکمرانوں اور اربابِ اختیار کے اختیار کا یہ عالم ہو تو انہیں کہیں سے بھی چلو بھر پانی حاصل کر کے ڈوب مرنا چاہیئےکہ آخری حد تک پسی ہوئی قوم نے اتنی صعوبتیں اٹھا کر انہیں ایوانِ اقتدار تک پہنچایا۔ اپنے خون پسینے کی اس کمائی سے جس سے انکا اپنا باورچی خانہ نہیں چلتا، ان کے پروٹوکول اور حفاظتی اقدامات کے لیئے ٹیکسوں کے انبار دے دئے۔ جو انہوں نے چاہا، اس پر سرِ تسلیم خم کیا۔ بجلی، پانی، گیس، خوراک، ادویات اور ضروریات کی تمام اشیا تک سے اجتناب شروع کر دیا کہ برا وقت ہے، صبر شکر سے گزارا کر لیں گے۔ وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔ یہ وقت کاٹ لیں گے تو اللہ اپنا کرم کرے گا اور وقت پلٹا دے گا۔ ان انوکھے لاڈلوں نے کھیلن کو چاند بھی مانگا تو ہم نے اسے بھی لانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ صرف اس امید پر کہ انہیں موقع دیں گے تو یہ ہمارے مسائل حل کریں گے۔ مگر فرعون ہمیشہ فرعون ہی رہتا ہے۔ انکے اپنے ایوانوں میں خوابِ خرگوش کے مزے ہی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ قرض اتارنے یا ملک سنوارنے کی بات ہو تو یہ وطن تمہارا ہے۔ سیلاب زدگان کی مدد کا مرحلہ ہو تو آنکھیں عوام کی طرف ہی اٹھیں گی۔ زلزلہ زدگان کی بحالی کی بات ہو تو اس برے وقت سے ڈرا کر عام شہریوں کو ہی اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد کے لئے اٹھایا جاتا ہے۔ اور جب اقتدار کے مزے لوٹنے کا مرحلہ ہو تو یہ وطن ہمارا ہے۔ اب آخری گھنٹی بج چکی ہے۔اس پر بھی ایوانِ نمائندگان بیدار نہ ہو ئے تو وہ وقت دور نہیں جب غیرتِ خداوندی جوش میں آئے گی اور برج الٹ جائیں گے۔ وہ بے نیاز ذات ہے، سیلاب کا رخ کہیں بھی پھیر سکتی ہے۔ زلزلے کسی بھی پٹی پر رواں کر سکتی ہے۔ صحراؤں کو چھوڑ کرآبادیوں بلکہ ایوانوں میں آندھیاں چلا سکتی ہے۔ جہاز کسی کے بھی سر پر گرا سکتی ہے۔ اور تو اور وہ چاہے تو ابابیل جیسی ادنی ترین مخلوق کے ذریعے بھی بڑے بڑے کام لے سکتی ہے۔ ابابیل سے یاد آیا کہ میری اپنے کمزور ہم وطنوں سے گذارش ہے کہ سورت الفیل کو اپنا وظیفہ بنا لیں اور خدا سے دعا و منا جات کریں۔ کیونکہ جس کا کوئی نہیں ہوتا، اسکا خدا ہوتا ہے۔ اور خدا والا کبھی نہتہ نہیں ہوتا۔ خدا نے اسے دعا جیسے طاقتور ترین اسلحے سے لیس کیا ہوتا ہے۔۔۔ بھلا ظالم کی آخر اوقات ہی کیا ہے ؟ ظلم پھر ظلم ہےبڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہےویسے بھی حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ’ظالم کے ظلم سے نہیں، صابر کے صبر سے ڈرنا چاہئے۔‘اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ پسی ہوئی مظلوم قوم کا ظالموں سے خوف بر طرف ہوا اور اب ان کے صبر کا خوف، دوسرے گروہ پر چھانے کو ہے۔

انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وسیعلمو الذین ظلموا ایی منقلب ینقلبون۔